بجلی، گیس او رپٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔رانا محمد سکندر اعظم خاں

فیصل آباد ( حشمت خان ) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے بجلی، گیس او رپٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے نہ صرف پیداواری لاگت بڑھے گی بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ سے عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ فیصل آباد چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس او رپٹرول کو بنیادی ایندھن کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی قیمتیں بڑھنے سے ملک بھر میں اس کا اثر نچلی سطح پر منتقل ہوتا ہے اور مہنگائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کا کریڈٹ لیتی ہے لیکن اس کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ افراط زر میں اضافے سے ملک کا ہر شخص یکساں طور پر پریشان ہے۔ انہوں نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ سرکاری محاصل میں 56ملین کی کمی دراصل درآمدات میں کمی کی وجہ سے ہوئی۔ اسی طرح کپاس کی فصل کی پیداوار میں بھی7ملین گانٹھوں کی کمی سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی کم پیداوار کا سب سے پہلا اثر یقینا دیہی علاقوں کے غریب کسانوں پر پڑے گا جبکہ حکومت نے ملوں کو خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں چھوٹ دے کر صنعتوں کیلئے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے اب تک نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کیلئے بہت تھوڑا کام ہوا ہے جس کی وجہ سے اس وقت خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ساڑھے چھ کروڑ لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے صنعتوں کو پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی جس سے برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خطے کے حوالے سے پاکستان میں بجلی کے نرخ سب سے زیادہ ہیں جبکہ حکومت نے ٹیکسٹائل سمیت پانچ اہم برآمدی سیکٹرز سے زیرو ریٹنگ کی سہولت بھی واپس لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے بھی خاص طور پر چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے برآمد کنندگان سخت پریشان ہیں۔ چونکہ اُن کا کل سرمایہ تھوڑا ہوتا ہے اور وہ بھی ری فنڈ کے چکر میں پھنس جاتا ہے جبکہ مارکیٹ سے اُن کیلئے 13.25فیصد شرح سود پر قرض حاصل کرنا بھی قابل عمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے کر ایسی حکمت عملی وضع کرنا ہو گی جس سے غریب اور کمزور طبقوں کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ اسی طرح صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ ہماری برآمدات عالمی منڈیوں میں ہمارے تجارتی حریفوں کی قیمتوں کابآسانی مقابلہ کر سکیں۔

About The Author

CTN

You might be interested in

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh