پرائیویٹ سکول مافیا اب قاتل بھی بن گیا لاریٹس گروپ آف سکولز انتظامیہ کی بے حسی سے ٹیچرجان بحق

ملتان:سی ٹی این نیوز:لاریٹس گروپ آف سکولز ملتان کے حارث کیمپس میں میڈپ نے سٹاف کے سامنے ٹیچر عاصمہ کو بے عزت کیا جس کو وہ برداشت نہ کرسکی شدید ذہنی دباو کی وجہ سے وہ چکرا کر گری تو سکول انتظامیہ نے یہ کہکر اٹھانے سے انکار کردیا کہ یہ ڈرامہ کر رہی ہے وہ بے چاری تڑپتی رہی لیکن کسی نے ریسکیو پر کال نہ کی بلکہ سکول کی گاڑی دینے سے بھی انکار کردیا جس پر اسے رکشے میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے تک وہ مر چکی تھی جس پر ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کرکدی اس کے بعد سکول انتظامیہ نے مقامی تحریک انصاف کے راہنما کے ہمراہ عاصمہ کے گھر جاکر ورثا کو ڈرا دھمکا کر کاروائی نہ کرنے کا بیان لکھوالیا

بیچاری 18 سالہ عاصمہ چھوٹے بہن بھائیوں کی سکول اور ٹیوشن کی فیس اور گھر کے بجلی کے بل کی ذمہ داری لئیے اپنے باپ کا واحد سہارا بن کر اس ظالم سماج میں کمانے نکلی تھی. اور فقط سات ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض بیچاری نے زندگی ہی قربان کر دی. اسے کیا پتہ تھا جو معاشرہ جہالت کی بنیادوں پر کھڑا ہو وہاں قوم کے معماروں کو بھی لوگ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں.

ظالمو یہ عزت دی تم نے ایک قوم کی معمار کو؟ قوم کی معمار بعد میں وہ تو ایک لڑکی تھی ناں؟ تمہارا مذہب تو عورتوں کی عزت کا علمبردار ہے. مگر اتنے لوگوں کے سامنے ایک معصوم نہتی لڑکی پر لفظوں کے اس قدر وار کر دینا کہ چنگیز خان کی تلواریں بھی انسانیت کو وہ زخم نہ دے سکیں جو تمہارے زہر آلود الفاظ نے ظلم کا سینہ چاق کر کے رکھ دیا.

اس سے بڑا ظلم یہ کہ تمہارے لفظوں کے وار سہتی سہتی خون سے لت پت نہتی لڑکی جب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی اور تم صرف اس لئیے ایمبولینس بلوانے سے انکاری ہو گئے کہ تمہارا سکول بدنام ہو جائے گا؟ ہائے ہائے کہاں مر گئی انسانیت؟ کہاں گئے وہ عورتو‌ں کی عزت کے علمبردار؟ کہاں گئے وہ تمہارے سب دعوے؟ کوئی پرندہ بھی کہیں مر رہا ہو تو جس دل میں خدا بستا ہو اس میں انسانیت جاگ ہی جاتی ہے. تو کیا خدا کو بھی بھول گئے تھے تم؟

جاہلو تم نے اگر تعلیم سے نفرت اور جہالت کو ہی اپنی میراث بنانا ہے تو اس میں اساتذہ کا کیا قصور ہے؟ تم جاؤ تمہیں تمہاری جہالت مبارک. مگر تمہیں خدا کا واسطہ اپنے حال پر ترس کھاؤ. کیا تم جہالت کے خاتمے کے خوف سے اب اساتذہ کا قتل کر کر کے انھیں معاشرے سے ہی ختم کر دو گے؟ آج تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اقتدار اور دولت کے نشے میں چور انسان ناں صرف اپنی موت سے غافل ہو جاتا ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئیے زہر قاتل بن جاتا ہے.

کیا اس معاشرے میں کوئی خدا ترس، کوئی مسلمان، کوئی غیرت مند اور کوئی انسان ایسا ہے جو میرے ساتھ میری اس بہن کو انصاف دلوانے کی خاطر آواز بلند کر سکے؟

#raise_ur_voice
#justice_for_Asma

About The Author

CTN

You might be interested in

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh