پاکستان کے نوے فیصد سے زائد عوام ملک میں اسلامی نظام کا نفاذچاہتے ہیں، انجینئرعظیم رندھاوا 

فیصل آباد( حشمت خان ) جماعت اسلامی کے ضلعی امیرانجینئرعظیم رندھاوا نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوے فیصد سے زائد عوام ملک میں اسلامی نظام کا نفاذچاہتے ہیں، عوام کے اندر اسلام کے طلب کو دیکھتے ہوئے وہ سیاسی جماعتیں بھی پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا نعرہ لگانے پر مجبور ہوئی ہیں جو خود کو لبرل اور سیکولر کہتی ہیں ۔مستقبل اسلام کا ہے ۔پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست وہی جماعت بناسکتی ہے جس کی قیادت کرپشن سے پاک ہو،جماعت اسلامی کے پاس نہ صرف باصلاحیت دیانتدار قیادت ہے بلکہ یہ ایک منظم جماعت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں زون پی پی 111کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ زونل امیر چوہدری محمد ارشد بھی اس موقع پر موجود تھے۔عظیم رندھاوا نے کہا کہ کہ ملک کے کروڑوں عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں دستیاب نہیں جبکہ حکمران تمام اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے کر قومی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ بچوں سمیت نہروں میں چھلانگیں لگانے والی ماؤں کی خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات ملک میں حالات کی سنگینی اور حکمرانوں سے ناامیدی اور مایوسی کے آئینہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملکی مسائل کے حل، ترقی،امن اورخوشحالی کے لئے سیاسی بیداری اور دیانت دار قیادت ضروری ہے، جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکن اقتدار کے ایوانوں میں رہے مگر کسی کے دامن پر بددیانتی ،کرپشن اور اقرباء پروری کا کوئی داغ نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں ایسا نظام چاہتی ہے جس میں غریب اور کمزوروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو وزیروں مشیروں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ ہماری منزل ملک میں شاندار اسلامی انقلاب ہے ، مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست جس کا نمونہ ہے۔ جب تک حکمران خود کو عوام کے خادم اور اللہ کے ہاں جوابدہ نہیں سمجھیں گے ، حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔دیانتدار لوگوں کی بجائے کرپٹ اور نااہل قیادت کو منتخب کیاجائے گا توبے حیائی، بدامنی، بیروزگاری میں اضافہ ہوگا

About The Author

CTN

You might be interested in

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *