پاکستانی برآمدات بڑھانے کیلئے ڈنمارک کے درآمد کنندگان سے ورچوئیل بی ٹو بی میٹنگز کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ احمد فاروق

فیصل آباد (حشمت خان ) پاکستانی برآمدات بڑھانے کیلئے ڈنمارک کے درآمد کنندگان سے ورچوئیل بی ٹو بی میٹنگز یا زیادہ لوگ ہونے کی صورت میں Webinar کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ یہ بات ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری سے زوم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈنمارک میں تعینات ہوئے صرف تین ماہ ہوئے ہیں جن میں سے ڈیڑھ ماہ لاک ڈاؤن کے نظر ہوگئے جبکہ انہیں عملی طورپر صرف ڈیڑھ ماہ کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک جرمنی اور اٹلی کی طرح بہت بڑی منڈی نہیں لیکن یہ اتنی چھوٹی بھی نہیں کہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک کیلئے پاکستانی برآمدات 208ملین ڈالر کی ہیں جن میں 90فیصد کا حصہ ٹیکسٹائل کا ہے اس لئے وہ اس شعبہ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ٹیکسٹائل کے شعبہ کو تقسیم کیا جائے تو wovenمیں ہم ٹاپ ٹن ممالک میں شامل ہیں جبکہ knittedکے شعبہ میں ہمارا 15/16نمبر ہے۔ اس میں ہمارے تجارتی حریف چین اور بنگلہ دیش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اگر ایک چیز برآمد کر رہے ہیں تو اس کی جگہ بنگلہ دیش 8اشیاء برآمد کر رہا ہے۔ ڈنمارک کو بنگلہ دیش کی برآمدات 750ملین ڈالر کی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چمڑے، سپورٹس اور سرجیکل گڈز میں بھی پاکستان نمایاں ملکوں میں شامل نہیں۔ احمد فاروق نے بتایا کہ پچھلے 2ماہ سے پاکستانی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ مئی میں ہماری برآمدات 1ملین تھیں جو جون میں بڑھ کر 6ملین ڈالر ہو گئی ہیں۔ انہوں نے صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری سے کہا کہ وہ کرونا کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کی واضح نشاندہی کریں تاکہ اُن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے براہ راست دوروں یا ملاقاتوں کے امکانات کم ہیں تاہم وہ ورچوئیل بی ٹو بی ملاقاتوں اورWebinarکا بھی بندوبست کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپین یونین نے کرونا پر قابو پانے والے 14ملکوں کی فہرست کو حتمی شکل دے دی ہے جن سے فوری طور پر تجارت شروع کی جا سکتی ہے تاہم یہ متعلقہ ملک کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ کس ملک سے تجارت کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک نے چھ ملکوں سے تجارت کی اجازت دی ہے۔ڈنمارک میں پاکستانی سفیر نے بتایا کہ اس ملک میں آرگینک مصنوعات بہت مقبول ہیں۔ پاکستان کو اس شعبہ میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کمپنیاں اس شعبہ میں کام کر رہی ہیں اُن کی راہنمائی کیلئے ایک الگ نشست بھی رکھی جا سکتی ہے تاکہ پاکستا ن سے ان مصنوعات کی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک پریزنٹیشن بھی پیش کی اور بتایا کہ عید کے فوراً بعد ہونے والی زوم میٹنگ میں وہ متعلقہ برآمد کنندگان کو مزید معلومات مہیا کریں گے۔ ا س سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے ڈنمارک میں پاکستانی سفیر احمد فاروق کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے قابل قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ زوم میٹنگ کیلئے متعلقہ شعبوں کے اہم برآمد کنندگان کو مدعو کریں گے تاکہ بہتررابطوں کے ذریعے پاکستانی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ رانا محمد سکندر اعظم خاں نے بتایا کہ حکومت نے 9روز کیلئے لاک ڈاؤن کر دیا ہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بند ہو گئی ہیں۔ اس کے بعد آئندہ میٹنگ میں زمینی حقائق کے مطابق بات چیت ہو گی۔ میاں محمد لطیف نے بتایا کہ حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے صنعتوں کیلئے سانس لینے کی جگہ پیدا کر دی ہے۔ اب صنعتی پیداوار کا عمل بلا روک ٹوک جاری ہے۔عید کی ایک چھٹی کے علاوہ باقی تمام دن برآمدی ادارے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہماری مسابقتی قیمتیں بہت زیادہ تھیں لیکن اب یورپ میں حالات کافی بہتر ہیں۔ اب صرف برآمد کنندگان کو کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب سے سید ضیاء علمدار حسین، کاشف ضیاء،چوہدری مشتاق چیمہ، ملک رضوان اور رانا سعید اقبال نے بھی خطاب کیا۔

About The Author

CTN

You might be interested in

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh